7 اگست 2026 - 14:33
انصاراللہ کا انتباہ: یمن میں سعودی فوج اور اس کے حامی محفوظ نہیں رہیں گے

یمن کی انصاراللہ تحریک کے سیاسی دفتر کے دو ارکان نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں موجود سعودی فوج، اس کے فوجی اڈے اور سعودی حمایت یافتہ عناصر آئندہ حملوں سے محفوظ نہیں رہیں گے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن حزام الاسد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغامات میں کہا کہ یمن کی سرزمین پر موجود سعودی فوج، اس کے فوجی اڈے اور اس کے حمایت یافتہ عناصر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ان قوتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں کی مذمت کرتی ہیں اور کہا کہ اگر سعودی عرب ان کے ملک میں فوجی اڈے قائم کرے، وہاں سے مقامی افراد کو بھرتی کرے اور انہیں منظم کرے تو پھر وہ یمن میں سعودی فوجی موجودگی کے خلاف کارروائیوں پر اعتراض کریں۔

الاسد نے کہا کہ یمنی مسلح افواج ان تمام قوتوں کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں جو یمنی عوام کے حقوق، آزادی اور خودمختاری کے حصول کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ ان کے بقول، جو بھی فریق کشیدگی میں اضافے میں شریک ہوگا، اس سے اس کی قومیت سے قطع نظر نمٹا جائے گا۔

انصاراللہ کے رہنما نے مأرب کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اس علاقے میں ہتھیار اور فوجی سازوسامان منتقل کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں سعودی عرب سے متعلق اسلحہ گوداموں میں دھماکوں اور حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

حزام الاسد نے یمن میں سعودی فوجی موجودگی کو بیرونی مداخلت قرار دیتے ہوئے امریکہ پر سعودی عرب کی حمایت اور یمن میں اس کے فوجی اڈوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن سعودی حکومت کے تعاون سے یمن میں سعودی فوجی اڈے قائم کرنے اور ان میں اپنے حمایت یافتہ عناصر کو منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعا یمن میں سعودی فوجی موجودگی کو بیرونی مداخلت سمجھتا ہے اور یمنی مسلح افواج محاصرے کے خاتمے، یمنی عوام کے حقوق کی بحالی اور ملکی خودمختاری کے حصول تک ہر فوجی اقدام کا مقابلہ جاری رکھیں گی۔

انصاراللہ: یمن میں خانہ جنگی نہیں ہو رہی

انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے ایک اور رکن محمد الفرح نے کہا ہے کہ یمن میں خانہ جنگی نہیں ہو رہی بلکہ ان کے بقول سعودی قبضے اور اس کے اندرونی و بیرونی حامیوں کے خلاف مزاحمت جاری ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ سعودی عرب مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھرتی کر رہا ہے، جن میں یمنی شہریوں کے علاوہ امریکی سکیورٹی کمپنیوں کے اہلکار اور پاکستانی، برطانوی و امریکی فوجی تربیت کار بھی شامل ہیں، تاکہ یمن پر اپنا اثر و رسوخ مسلط کیا جا سکے۔

محمد الفرح نے خبردار کیا کہ یمنی سرزمین پر سعودی عرب کی کسی بھی فوجی سرگرمی کا جواب دیا جائے گا، چاہے اس میں شریک افراد کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔ ان کے مطابق یمن کی زمینی، فضائی یا بحری خودمختاری کی خلاف ورزی کی صورت میں سعودی عرب کے اندر اور اس کے حساس علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے یمن اور لبنان میں سیاسی شخصیات اور گروہوں کی حمایت کے لیے سعودی اخراجات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ریاض ایسے عناصر پر سرمایہ کاری کر رہا ہے جنہیں عوامی اور سیاسی سطح پر خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں۔

الفرح نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی ایک کارروائی ان تمام کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے جو ریاض نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یمن میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کی ہیں۔ ان کے بقول سعودی عرب کی مسلسل اشتعال انگیز پالیسیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے فیصلہ ساز اپنے عوام کے مفادات اور ملکی سلامتی کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

یمنی فوج کا سعودی حمایت یافتہ فورسز پر حملے کا دعویٰ

دوسری جانب یمنی مسلح افواج نے مأرب اور حضرموت کے درمیان مختلف علاقوں میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ نام نہاد ہنگامی فورسز کے اجتماع کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ایک وسیع فوجی کارروائی کے دوران الرویک، العبر اور الثنیہ کے علاقوں میں فوجی اجتماعات اور ہنگامی فورسز کی پہلی اور تیسری ڈویژن سے وابستہ کیمپوں کو بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی سعودی فوج کی جانب سے الجوف اور مأرب کے محاذوں پر فوجی کارروائیوں میں اضافے کی تیاریوں کی نگرانی کے بعد کی گئی۔

یحییٰ سریع کے مطابق حملوں میں سعودی حمایت یافتہ سیکڑوں اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ مشرقی یمن کے علاقے الودیعہ میں متعدد فوجی کیمپ، گاڑیاں اور اسلحہ گودام بھی تباہ یا نذرِ آتش کیے گئے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha